عالمی سطح پر دینی ثقافت کے پھیلاو میں پاکستانی بلتستانی علماء کا کردار

نوع مقاله: مقاله پژوهشی

نویسنده

ریسرچ اسکالر جامعه المصطفی العالمیه

چکیده

دینی ثقافت،(Religious culture) ، حقیقت میں ایک بهت هی وسیع مفهوم کا حامل ہے۔ جو عمدتا چار مرکزی بنیادی عناصر پر مشتمل ہے۔ دینی ثقافت کا تعلق اعتقادات، اخلاق، آداب اور احکام کے ساتھ جوڑا  هوا ہے۔ دینی ثقافت  کا محل ظهور فرد اور معاشره  هے۔اسی  لئےقرآن مجید جو دین کامصدر و منبع هےمعاشرتی مسائل کو  سب سےزیاده اهمیت دیتا هے۔قرآنی دستورات اگر عمل کی شکل اختیار کریں تو وہ ایک دیندار معاشرہ ہی کی صورت میں ہمیں نظر آئےلہذااسی تناظر میں بلتستانی علماء کی پهچان ساری دنیا میں ادب، تدین، امانت داری، اخلاص، ایثار اور قناعت سے کی جاتی ہے۔ بلتی علماء کو انهی خصوصیات کی بنا پر پورےپاکستان اور دنیا بھر میں ایک خاص عزت کی نگاه سے دیکھتے هیں  ۔محراب و منبر سےلیکر  مدارس، سیاست،ثقافت، اجتماعی  و اصلاحی امور، تالیف ، تحقیق و ترجمه غرضیکه هر میدان  میں اس علاقه کے علماءسب سے آگے نظر  آتے هیں۔

بلتستان دنیا کا واحد شیعه خطه هے که  جها ں انقلاب اسلامی ایران سے پهلے مقامی مسائل کو شریعت کے مطابق حل کرنے کی غرض سے محکمه شرعیه وجود میں لایا گیا اور اسی طرح بهت سارے فقهی، اجتماعی،حقوقی  اور معاشرتی اور انسانی  مسائل ،   حتی بعض سرکاری عدالتوں  میں دائر کیسسیز ،  مقامی  علماء خود هی حل و فصل کرتے هیں۔ انقلاب اسلامی ایران اور امام خمینی(ره) کے تاریخی  انقلاب کی معرفی میں  بھی بلتستانی علماء مثالی کردار ادا کرتے رہے هیں۔

پاکستان کے موجوده حالات میں بھی جهاں اهل منبر و محراب منحرف هورہے ہیں اسی طرح قرآن مجید کی  بعض آیتوں کی باطل تأویلیں  اور من گھڑت تفسیریں پیش کررہےہیں اور حتی بعض جعلی احادیث تک گھڑ تےنظر آتےہیں اور مختلف بدعتیں دین  هی کے نام پر،دینی لباده اڑھ کے دین میں داخل کر کے اسلامی اقدار کی دهجیاں اڑا  رهےهیں  اور مذهبی ثقافت کو ختم کرنےکی عالمی سازشیں عروج پر هیں، و هاں بلتستانی علماء کو خریدنے کی  بھی بهت  ساری کوششیں جاری هیں ،لیکن ان تمام تر کوششوں  کے باوجود  دینی ثقافت کو بچانے میں اس علاقے کے علماء صف اول میں نظر آتے هیں ۔ پور ےپاکستان کے علاوه، یورپ، امریکا، جاپان ، هندوستان، براعظم آفریقه، کویت، سعودی عرب، متحده عرب امارات، شام، لبنان، ایران، عراق وغیره میں بھی یهاں کے علماء ثقافتی میدانوں  میں بهت هی فعاّل نظر آتے هیں ۔ صوبه گلگت بلتستان میں  علماء کی بے پناه   قربانیوں  کا نتیجه  تھا که پاکستان کی تاریخ میں  پهلی بار اس صوبے میں  سیاست دینی کی بناء پر اپنی حکومت  تشکیل دینے میں کامیاب هوئے  یوں  یهاں ایک نئی تاریخ رقم هوئی۔

اسی طرح  اتحاد بین المسلمیں  کے قیام اور بقاء میں  یهاں کےعلماء کےکردار مثبت اور نمونه عمل ہے ۔اس تحقیق کا کلیدی سوال« دینی ثقافت کے پھیلاو میں بلتستانی علماء کا جهانی کردار »، ہے۔ یه تحقیق زیاده تر field researchاور field observationپر مشتمل ہے۔ بلتستانی علماء کےمذهبی ثقاتتی خدمات پر  کئی جلدوں پر مشتمل کتاب لکھنے کی ضرورت هے لهذا  اس مقاله میں انتهائی اجمالی فهرست هی پیش کیا  ہے تا که  یه اثر آینده آنے والے محققین  کےلئےایک مقدمه بن سکےاور وه   اس اهم موضوع پر علمی کام کرسکیں۔

کلیدواژه‌ها


عنوان مقاله [English]

Role of Pakistani religious scholars in the spread of religious culture globally

نویسنده [English]

  • Mohammad Yaqoob Bashovi
Research Scholar Jamia Al-Mustafa University
چکیده [English]

The role of Baltistani (Pakistan) scholars in spreading the religious culture Religious culture carries a wide concept comprising of four elements: beliefs, ethics, customs, and rulings. Religious culture erupts from individuals and society. Quran, as the main source of the religion attaches much significance to social matters. Baltistani scholars hold a high position as regards Quranic teachings, such as religiosity, piety, and sincerity in their actions. Among all, they were the forerunners in worship, speech, lecturing, and teaching. Baltistan is the only place on earth that enjoyed a shiite judicial system before the Iranian revolution. Baltistani scholars played an important role in introducing Imam Khomeini and the Iranian revolution to the world. Scholars and missionaries from this region are scattered around the whole world. The first shiite state in the history of Pakistan was founded in this region. Keywords: religious culture of Baltistani Scholars, international field, beliefs, politics, ethics, rulings, customs, scholarly works.

کلیدواژه‌ها [English]

  • Religious scholars
  • universities
  • beliefs
  • politics
  • ethics
  • morals
  • commands
  • academic works
1. القرآن الکریم۔

2. بشوی 1،محمد یعقوب.(1397)۔تغییرات اجتماعی از منظر قرآن۔قم: بوستان کتاب ۔

3. بشوی 2،محمد یعقوب۔(1393)۔بلتستان کے مذهبی کلچر پر آغاخان تنظیم کےاقتصادی  منصوبےکےمنفی اثرات  کاجائزه۔قم:خ۔

4. بیرو،آلن۔(۱۳۸۰)۔فرهنگ علوم اجتماعی۔ترجمه باقر ساروخانی۔تهران:کیهان۔

5. پامیر ٹائمز۔(۱۳۹۶) ۔سکردو میں آج بھی چوری کا کوئی واقعه پیش نهیں آتا۔net ۔https://urdu۔pamirtimes۔

6. تیموری، ابراهیم ۔(1361)۔اولین مقاومت منفی درایران،تهران:جیبی۔

7. چلپی، مسعود؛ ج(385۱)۔جا معه­شناسی نظم: تشریح و تحلیل نظری نظم اجتماعی، تهران: نی۔

8. حاجیلری، عبدالرضا۔(1380)۔کنکاشی در تغییر ارزش‌ها پس از پیروزی انقلاب اسلامی۔تهران: دفتر نشر معارف۔

9. دیلمی،حسن۔(بی تا)۔إرشاد القلوب إلى الصواب ۔بی جا۔

10. ذو علم، علی ۔(۱۳۷۹)۔انقلاب و ارزش‌ها۔تهران:پژوهشگاه فرهنگ و اندیشه اسلامی۔

11. کراجکى ،ابوالفتح ۔(۱۳۹۴)۔معدن الجواهر۔ تهران :کتابخانه مرتضویه ۔

12. مصباح یزدی، محمدتقی ۔(۱۳۸۹)۔تهاجم فرهنگی۔قم: انتشارات مؤسسے آموزشی و پژوهشی امام خمینی(ره)۔

13. مطهری،مرتضی۔(۱۳۸۰)۔مجموعه آثار،قم:صدرا۔

14. نرگسی،رضا رمضان۔(۱۳۸۹)۔تبیین جامعه شناختی،انقلاب مشروطه(کوششی درتحلیل تغییرات اجتماعی تاریخ معاصر مشروطه)۔قم:انتشارات موسسہ آموزشی و پژوهشی امام خمینی۔